ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد کے بعد شدت پسندوں کے نشانے پرہیں ایک کے بعددوسری مسجد، کرناٹک کے منڈیا میں بھی جامع مسجد پر نشانہ

بابری مسجد کے بعد شدت پسندوں کے نشانے پرہیں ایک کے بعددوسری مسجد، کرناٹک کے منڈیا میں بھی جامع مسجد پر نشانہ

Mon, 16 May 2022 07:47:41    S.O. News Service

بنگلورو،16؍مئی (ایس او نیوز)بابری مسجد کی شہادت اور پھر سپریم کورٹ کے ذریعے مسلمانوں کے ہاتھ سے اس مسجد کے نکلنے کے بعد شدت پسند تنظیمیں ایک کے بعد دوسری مسجدوں کو نشانہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں ایسے وقت جبکہ وارنسی میں گیان واپی مسجد کا تنازعہ جاری ہے، کرناٹک کے ضلع منڈیا کے سری رنگاپٹن کی جامع مسجد اب شدت پسند تنظیموں کی نظروں میں آگئی ہے۔ اصل مسائل سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے اس طرح کی تنظیمیں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو سماجی و سیاسی سطح کے علاوہ مذہبی بنیادوں پر ہراساں کرنے کے ساتھ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے اور نت نئے مسائل کھڑے کرنے میں سرگرم ہوگئی ہیں.

ضلع منڈیا کا سری رنگاپٹن دراصل جنتادل ایس کا گڑھ سمجھاجاتا ہے۔ اسے وکلیگا برادری کا بھی مضبوط گڑھ سمجھاجاتا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سری رنگا پٹنم جامع مسجد انتظامیہ نے ضلع حکام سے بارہااپیل کی کہ مسجد کا تحفظ کیاجائے۔ مگر اب شدت پسند تنظیمیں دعویٰ کررہی ہیں یہ مسجد ہنومان مندر کے مقام پر تعمیر کی گئی ہے۔

کالی مٹھ کے رشی کمار سوامی کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ سری رنگاپٹن کی جامع مسجد کے اندر ہوئیسالہ راجاؤں کے دور کی علامتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہنومان جینتی کے موقع پر اس سلسلہ میں مہم شروع کی جائے گی۔

 سوامی نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ مندر میسورو کے سلطانوں کے دور سے قبل تعمیر ہواتھا۔ سوامی نے دعویٰ کیاکہ ٹیپوسلطان کے دور میں ہنومان مندر کو مسجد میں تبدیل کیاگیاتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 1784ء میں مندر کو تباہ کردیاگیاتھا۔

بتایا گیا ہے کہ مسجد ڈھانے کی اپیل کرنے کے الزام میں اس سوامی کو جاریہ سال گرفتار بھی کیاگیاتھا اور وہ فی الحال ضمانت پر رہا ہیں۔


Share: